السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
جماع أبواب ما يجزئ من العمرة إذا جمعت إلى غيرها -- باب: جواز القران وهو الجمع بين الحج والعمرة بإحرام واحد باب: 0ان ابواب کا مجموعہ جو اس عمرے کے کفایت کر جانے کے بیان میں ہیں جسے کسی دوسری عبادت کے ساتھ ملایا گیا ہو۔ -- باب: حجِ قران کے جواز کا بیان اور وہ ایک ہی احرام کے ساتھ حج اور عمرے کو جمع کرنا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ الصَّبِيِّ بْنِ مَعْبَدٍ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَنَصْرَانِيَّةٍ فَأَسْلَمْتُ فَاجْتَهَدْتُ فَأَهْلَلْتُ بِالْحَجَّةِ وَالْعُمْرَةِ فَخَرَجْتُ أُهِلُّ بِهِمَا فَمَرَرْتُ عَلَى زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ بِالْعُذَيْبِ وَأَنَا أُهِلُّ بِهِمَا فَقَالَ أَحَدُهُمَا: لَهَذَا أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِ أَهْلِهِ وَقَالَ الْآخَرُ: أَبِهِمَا جَمِيعًا؟ فَخَرَجْتُ كَأَنَّمَا أَحْمِلُهُمَا عَلَى ظَهْرِي حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي قَالَا، فَقَالَ: " إِنَّهُمَا لَا يَقُولَانِ شَيْئًا هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ.سیدنا صبی بن معبد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں جاہلیت و نصرانیت سے نیا نیا مسلمان ہوا تھا تو کوشش کر کے میں نے حج و عمرہ کا تلبیہ کہا اور یہی تلبیہ کہتے ہوئے نکلا اور زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ رحمہما اللہ کے پاس سے عذیب نامی جگہ سے گزرا تو ان میں سے ایک نے کہا: یہ تو اپنے گھر کے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے اور دوسرے نے کہا: کیا دونوں کا اکٹھا تلبیہ؟ تو میں وہاں سے نکلا اور ان کی بات مجھے بہت چبھی حتیٰ کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کی بات ذکر کی تو انہوں نے فرمایا: ان دونوں کی بات کوئی وزن نہیں رکھتی، تو اپنے نبی ﷺ کی سنت کی ہدایت دیا گیا ہے۔