السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
جماع أبواب ما يجزئ من العمرة إذا جمعت إلى غيرها -- باب: جواز القران وهو الجمع بين الحج والعمرة بإحرام واحد باب: 0ان ابواب کا مجموعہ جو اس عمرے کے کفایت کر جانے کے بیان میں ہیں جسے کسی دوسری عبادت کے ساتھ ملایا گیا ہو۔ -- باب: حجِ قران کے جواز کا بیان اور وہ ایک ہی احرام کے ساتھ حج اور عمرے کو جمع کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 8773
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: شَهِدْتُ عُثْمَانَ وَعَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَأَنْ يَجْمَعَ بَيْنَهُمَا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا فَقَالَ: " لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا "، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: تَرَانِي أَنْهَى النَّاسَ عَنْ شَيْءٍ وَأَنْتَ تَفْعَلُهُ، فَقَالَ: " مَا كُنْتُ لِأَدَعُ سُنَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
مروان بن حکم فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کو مکہ میں پایا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج و عمرہ کو جمع کرنے سے منع کرتے تھے اور حج تمتع سے بھی۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے حج قران کا تلبیہ کہا اور فرمایا: «لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا» ”میں عمرہ اور حج دونوں کے لیے حاضر ہوں“، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تجھے معلوم ہے کہ میں لوگوں کو ایک کام سے منع کرتا ہوں اور تو پھر وہی کرتا ہے؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں رسول اللہ ﷺ کی سنت کسی کے قول کی خاطر نہیں چھوڑوں گا۔