❮
❯
حدیث نمبر: 8749
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، سَمِعَ مَالِكُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ السُّلَمِيِّ، أَنَّهُ لَقِيَ عَلِيًّا وَقَدْ أَهَلَّ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَأَهَلَّ هُوَ بِالْحَجِّ، قَالَ: فَقُلْتُ: لِعَلِيٍّ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا؟ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّمَا ذَلِكَ لَوْ كُنْتَ حِينَ ابْتَدَأْتَ دَعَوْتَ بِإِدَوَاتِكَ فَاغْتَسَلْتَ ثُمَّ أَهْلَلْتَ بِهِمَا جَمِيعًا ثُمَّ طُفْتَ طَوَافَيْنِ طَوَافًا بِحَجِّكَ وَطَوَافًا بِعُمْرَتِكَ ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْكَ شَيْءٌ إِلَى يَوْمِ النَّحْرِ " وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ مَنْصُورٍ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ أَوْ مَالِكٌ حَدَّثَنِيهِ ⦗٥٦٩⦘ وَقَالَ: لَا ذَاكَ لَوْ كُنْتَ بَدَأْتَ بِالْعُمْرَةِ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَإِذَا قَرَنْتَ فَافْعَلْ كَذَا فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ، وَكَانَ مَنْصُورٌ يَشُكُّ فِي سَمَاعِهِ مِنْ مَالِكٍ نَفْسِهِ أَوْ مِنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ

ابونصر سلمی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ کہا ہوا تھا اور انہوں نے صرف حج کا تلبیہ کہا تھا۔ وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا میں دونوں کا اکٹھا تلبیہ کہہ لوں؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تب ہوتا اگر تو ابتدا کرتے وقت اپنا پانی کا برتن منگواتا اور غسل کرتا، پھر دونوں کا اکٹھا تلبیہ کہتا، پھر دو طواف کرتا، ایک طواف اپنے حج کے لیے اور ایک طواف اپنے عمرہ کے لیے، پھر یوم النحر تک تیرے لیے کوئی چیز حلال نہ ہوتی۔
ثوری نے اسے منصور سے روایت کیا ہے اور اس میں ہے کہ انہوں نے فرمایا: نہیں، یہ تب ہوتا اگر تو عمرہ سے ابتدا کرتا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تو حج و عمرہ کو ملائے تو اس طرح کر، پھر اسی معنی میں ذکر کیا۔ منصور کو شک تھا کہ انہوں نے یہ خود مالک سے سنا ہے یا ابراہیم کے واسطے سے ان سے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8749