السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: استحباب البداية فيه بالشق الأيمن باب: غسل میں دائیں جانب سے ابتدا کرنے کے استحباب کا بیان
حدیث نمبر: 872
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي زِيَادَاتِ الْفَوَائِدِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَغْتَسِلُ فِي حِلَابٍ قَدْرَ هَذَا، وَأَرَانَا أَبُو عَاصِمٍ قَدْرَ الْحِلَابِ بِيَدِهِ فَإِذَا هُوَ كَقَدْرِ كُوزٍ يَسَعُ ثَمَانِيَةَ أَرْطَالٍ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى شِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى شِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِكَفَّيْهِ فَيَصُبُّ وَسَطَ رَأْسِهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اتنی مقدار کے پیالے سے غسل کرتے تھے اور ابو عاصم نے ہم کو پیالے کی مقدار اپنے ہاتھ سے بتلائی کہ وہ ایسا پیالہ تھا کہ اس میں آٹھ رطل پانی آجاتا تھا، پھر اپنے سر کی دائیں جانب پانی ڈالتے، پھر اپنے سر کی بائیں جانب، پھر چلو پانی اور اس کو سر کے درمیان میں ڈالتے۔