السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الرجل يحرم بالحج تطوعا ولم يكن حج حجة الإسلام أو يحرم إحراما مطلقا ويقول: إحرامي كإحرام فلان وكان فلان مهلا بالحج فيكون حاجا ويجزئه عن حجة الإسلام باب: اس شخص کا بیان جو نفلی حج کا احرام باندھے حالانکہ اس نے اسلام کا فرض حج نہ کیا ہو، یا مطلق طور پر احرام باندھے اور کہے: ”میرا احرام فلاں شخص کے احرام جیسا ہے“ اور وہ فلاں شخص حج کا احرام باندھے ہوئے ہو، تو وہ حاجی شمار ہوگا اور یہ اسے فرض حج کی طرف سے کفایت کر جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ أَبُو عُمَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي إِلَى الْيَمَنِ قَالَ: فَوَافَقْتُهُ فِي الْعَامِ الَّذِي حَجَّ فِيهِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا مُوسَى كَيْفَ قُلْتَ حِينَ أَحْرَمْتَ؟ " قَالَ: قُلْتُ إِهْلَالٌ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " هَلْ سُقْتَ هَدْيًا؟ " قُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَانْطَلِقْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَحِلَّ "، فَانْطَلَقْتُ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ عَمَدْتُ إِلَى نِسْوَةٍ مِنْ آلِ قَيْسٍ يَعْنِي عَمَّاتِهِ فَمَشَطْنَ رَأْسِي بِالْغُسْلِ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي إِمَارَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدِمْتُ حَاجًّا فَبَيْنَا أَنَا أُحَدِّثُ النَّاسَ عِنْدَ الْبَيْتِ بِمَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَدِمَ رَجُلٌ فَقَالَ: دُونَكَ أَيُّهَا الرَّجُلُ بِحَدِيثِكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ، فَقُلْتُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ سَمِعَ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْ بِهِ حَتَّى يَقْدَمَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فَبِهِ ائْتَمُّوا فَلَمَّا قَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قُلْتُ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَحَدَثَ فِي النُّسُكِ شَيْءٌ فَغَضِبَ عُمَرُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ: أَجَلْ لَئَنْ نَأْخُذَ بِكِتَابِ اللهِ فَقَدْ أَمَرَ اللهُ بِالتَّمَامِ وَأَنْ نَأْخُذَ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيِّنَا فَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ.ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف بھیجا تو میں آپ ﷺ کو اس سال ملا جس سال آپ ﷺ نے حج کیا تو آپ ﷺ نے مجھے فرمایا: ”اے ابوموسیٰ! جب تو نے احرام باندھا تھا تو کیا کہا تھا؟“ میں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کی طرح کرنے کی نیت کی تھی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو قربانی کا جانور لایا ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جا بیت اللہ کا طواف کر اور صفا و مروہ کی سعی کر کے حلال ہو جا۔“ تو میں گیا اور میں نے صفا و مروہ کی سعی کی، پھر میں آلِ قیس کی عورتوں یعنی اپنی پھوپھیوں کے پاس گیا، انہوں نے میرا سر دھویا اور کنگھی کی، پھر اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں میں حج کرنے کے لیے آیا تو اس دوران کہ میں لوگوں کو وہ بات بتا رہا تھا جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمائی تھی ایک شخص آیا اور کہنے لگا: بچ کر رہو اپنی اس بات کی بنا پر، آپ کو پتہ نہیں کہ امیر المومنین نے مناسکِ حج میں کیا اضافہ کیا ہے؟ تو میں نے کہا: اے لوگو! جس نے کوئی بھی بات سنی ہے وہ اس کا اعتبار نہ کرے حتیٰ کہ امیر المومنین تشریف لے آئیں، پس انہی کی اقتدا کرو۔ جب عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو میں نے کہا: کیا طریقۂ حج میں کوئی نیا حکم جاری ہوا ہے؟ تو عمر رضی اللہ عنہ اس بات سے غصے ہوئے، پھر کہا: ہاں اگر ہم کتاب اللہ کو لیں تو اللہ تعالیٰ نے مکمل کرنے کا حکم دیا اور اگر ہم رسول اللہ ﷺ کو لیں تو آپ ﷺ قربانی کرنے سے پہلے حلال نہیں ہوئے۔