السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الحج عن الميت وأن الحجة الواجبة من رأس المال باب: میت کی طرف سے حج کرنے اور اس بات کا بیان کہ واجب حج (کا خرچ) کل ترکے سے ادا کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 8672
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَعْنِي إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ فَحُجِّي عَنْهَا أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَتِهِ؟ " قَالَتْ نَعَمْ، قَالَ: " اقْضُوا حَقَّ اللهِ فَإِنَّ اللهَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.حافظ ثناء اللہ
ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری والدہ نے حج کرنے کی نذر مانی تھی، لیکن وہ حج کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گئی، کیا میں اس کی طرف سے حج کرلوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! اس کی طرف سے حج کر، کیا خیال ہے اگر تیری والدہ پر قرضہ ہوتا تو تو وہ ادا کرتی؟“ کہنے لگی: جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اللہ کو بھی ادائیگی کرو، وہ وفا کا سب سے زیادہ حق دار ہے۔“