السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ركوب البحر لحج أو عمرة أو غزو باب: حج، عمرہ یا جہاد کے لیے سمندری سفر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8665
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، وَهَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ: مَاءُ الْبَحْرِ لَا يُجْزِئُ مِنْ وُضُوءٍ وَلَا مِنْ جَنَابَةٍ إِنَّ تَحْتَ الْبَحْرِ نَارًا ثُمَّ مَاءً ثُمَّ نَارًا حَتَّى عَدَّ سَبْعَةَ أَبْحُرٍ وَسَبْعَةَ أَنْيَارٍ. هَكَذَا رُوِيَ مَوْقُوفًا.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا: سمندری پانی کے ساتھ وضو یا غسلِ جنابت کرنا جائز نہیں۔ یقیناً سمندر کے نیچے آگ ہے، پھر پانی ہے، پھر آگ ہے، حتیٰ کہ انہوں نے سات سمندر اور سات آگیں شمار کیں۔