السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من اختار الركوب لما فيه من زيادة النفقة والإجمام للدعاء وأن رسول الله صلى الله عليه وسلم حج راكبا والخير في كل ما صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم باب: ان کا بیان جنہوں نے سوار ہو کر حج کرنے کو اختیار کیا کیونکہ اس میں خرچ کی زیادتی اور دعا کے لیے یکسوئی ہے، اور اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے سوار ہو کر حج کیا، اور بھلائی اسی میں ہے جو رسول اللہ ﷺ نے کیا۔
حدیث نمبر: 8652
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو حَامِدِ بْنِ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَدَرْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ يَوْمَ الصَّدْرِ فَمَرَّتْ بِنَا رُفْقَةٌ يَمَانِيَّةٌ رِحَالُهُمُ الْأُدُمُ وَخُطُمُ إِبِلِهِمُ الْخُزُمُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى أَشْبَهِ رُفْقَةٍ وَرَدَتِ الْحَجَّ الْعَامَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ إِذْ قَدِمُوا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذِهِ الرُّفْقَةِ.حافظ ثناء اللہ
اسحاق بن سعید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ صدر والے دن طوافِ صدر کیا تو ہمارے ساتھ ایک یمنی قافلہ گزرا، ان کے کجاوے چمڑے کے تھے اور ان کے اونٹوں کی مہاریں پیٹی کی رسی کی تھیں تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو یہ چاہتا ہے کہ اس قافلے کے مشابہ ترین قافلہ دیکھے جو حجِ وداع والے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آیا تھا تو وہ اس قافلے کو دیکھ لے۔