السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من اختار الركوب لما فيه من زيادة النفقة والإجمام للدعاء وأن رسول الله صلى الله عليه وسلم حج راكبا والخير في كل ما صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم باب: ان کا بیان جنہوں نے سوار ہو کر حج کرنے کو اختیار کیا کیونکہ اس میں خرچ کی زیادتی اور دعا کے لیے یکسوئی ہے، اور اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے سوار ہو کر حج کیا، اور بھلائی اسی میں ہے جو رسول اللہ ﷺ نے کیا۔
حدیث نمبر: 8650
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي بِنَيْسَابُورَ. قَالَا: أنبأ أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا شَبَابَةُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَحُجُّونَ وَلَا يَتَزَوَّدُونَ وَيَقُولُونَ نَحْنُ مُتَوَكِّلُونَ فَيَحُجُّونَ إِلَى مَكَّةَ وَيَسْأَلُونَ النَّاسَ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى} [البقرة: ١٩٧]. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بِشْرٍ عَنْ شَبَابَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اہل یمن حج کرتے تھے اور زادِ راہ ساتھ نہیں لیتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم توکل کرنے والے ہیں اور وہ مکہ تک حج کرنے آتے ہوئے لوگوں سے مانگتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: ﴿وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى﴾ [سورة البقرة: 197] ”اور زادِ راہ لے کر چلو، یقیناً تقویٰ بہتر زادِ راہ ہے۔“