❮
❯
حدیث نمبر: 8637
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: قَعَدْنَا إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ مَا الْحَاجُّ؟ قَالَ: " الشِّعِثُ التَّفِلُ "، فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أِيُّ الْحِجَّةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " الْعَجُّ وَالثَّجُّ " فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا السَّبِيلُ؟ قَالَ: " زَادٌ وَرَاحِلَةٌ ". هَذَا الَّذِي عَنَى الشَّافِعِيُّ بِقَوِْلِهِ مِنْهَا مَا يَمْتَنِعُ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ تَثْبِيتِهِ وَإِنَّمَا امْتَنَعُوا مِنْهُ؛ لِأَنَّ الْحَدِيثَ يُعْرَفُ بِإِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ الْخُوزِيِّ وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ..
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: حاجی کون ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پراگندہ حالت والا غبار آلود۔“ ایک دوسرا کھڑا ہوا اور اس نے پوچھا: کون سا حج افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس میں (تلبیہ کے ساتھ) آواز بلند کی جائے اور (قربانی کا) خون بہایا جائے۔“ ایک اور کھڑا ہوا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! سبیل کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سواری اور زادِ راہ۔“
امام شافعی رحمہ اللہ کے اس قول سے یہی مراد ہے کہ ان میں سے بعض روایات کو اہلِ علم ثابت ماننے سے رکے ہیں، اور وہ اس لیے رکے کہ یہ حدیث ابراہیم بن یزید خوزی کے ذریعے معروف ہے اور محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8637
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»