السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الرجل يطيق المشي ولا يجد زادا ولا راحلة فلا يبين أن يوجب عليه الحج باب: اس شخص کا بیان جو پیدل چلنے کی طاقت تو رکھتا ہو لیکن زادِ راہ اور سواری نہ پاتا ہو تو یہ واضح نہیں ہے کہ اس پر حج واجب ہو۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: قَعَدْنَا إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ مَا الْحَاجُّ؟ قَالَ: " الشِّعِثُ التَّفِلُ "، فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أِيُّ الْحِجَّةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " الْعَجُّ وَالثَّجُّ " فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا السَّبِيلُ؟ قَالَ: " زَادٌ وَرَاحِلَةٌ ". هَذَا الَّذِي عَنَى الشَّافِعِيُّ بِقَوِْلِهِ مِنْهَا مَا يَمْتَنِعُ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ تَثْبِيتِهِ وَإِنَّمَا امْتَنَعُوا مِنْهُ؛ لِأَنَّ الْحَدِيثَ يُعْرَفُ بِإِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ الْخُوزِيِّ وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ..سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: حاجی کون ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پراگندہ حالت والا غبار آلود۔“ ایک دوسرا کھڑا ہوا اور اس نے پوچھا: کون سا حج افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس میں (تلبیہ کے ساتھ) آواز بلند کی جائے اور (قربانی کا) خون بہایا جائے۔“ ایک اور کھڑا ہوا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! سبیل کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سواری اور زادِ راہ۔“
امام شافعی رحمہ اللہ کے اس قول سے یہی مراد ہے کہ ان میں سے بعض روایات کو اہلِ علم ثابت ماننے سے رکے ہیں، اور وہ اس لیے رکے کہ یہ حدیث ابراہیم بن یزید خوزی کے ذریعے معروف ہے اور محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔