السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المضنو في بدنه لا يثبت على مركب وهو قادر على من يطيعه أو يستأجره فيلزمه فريضة الحج. باب: وہ شخص جو جسمانی طور پر شدید کمزور ہو اور سواری پر نہ ٹک سکتا ہو مگر وہ کسی ایسے شخص کو پا لے جو اس کی اطاعت کرے یا اسے اجرت پر رکھ سکے، تو اس پر حج کا فریضہ لازم ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8636
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي امْرَأَةٌ كَبِيرَةٌ لَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نُرْكِبَهَا عَلَى الْبَعِيرِ لَا تَسْتَمْسِكُ وَإِنْ رَبَطْتُهَا خِفْتُ أَنْ تَمُوتَ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا قَالَ: " نَعَمْ " رِوَايَاتُ ابْنِ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ تَكُونُ مُرْسَلَةً وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَرِوَايَةُ أَيُّوبَ أَصَحُّ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری والدہ کافی عمر کی ہے، ہم اس کو سواری پر نہیں بٹھا سکتے، وہ سوار ہونے سے قاصر ہے اور اگر ہم اس کو (سواری پر) باندھ دیں تو اس کی موت کا خدشہ ہے، کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“