السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المضنو في بدنه لا يثبت على مركب وهو قادر على من يطيعه أو يستأجره فيلزمه فريضة الحج. باب: وہ شخص جو جسمانی طور پر شدید کمزور ہو اور سواری پر نہ ٹک سکتا ہو مگر وہ کسی ایسے شخص کو پا لے جو اس کی اطاعت کرے یا اسے اجرت پر رکھ سکے، تو اس پر حج کا فریضہ لازم ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8634
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ خَثْعَمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبِي أَدْرَكَ الْإِسْلَامَ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ رُكُوبَ الرَّحْلِ، وَالْحَجُّ مَكْتُوبٌ عَلَيْهِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ: " أَنْتَ أَكْبَرُ وَلَدِهِ؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ أَكَانَ ذَلِكَ يجْزِئُ؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاحْجُجْ عَنْهُ ". اخْتُلِفَ فِي هَذَا عَلَى مَنْصُورٍ فَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، هَكَذَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ خثعم قبیلہ کا ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے والد نے اسلام کو پایا جب وہ بوڑھے ہو چکے، سواری نہیں کر سکتے اور حج ان پر فرض ہے، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا آپ اس کے بڑے فرزند ہیں؟“ کہنے لگا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا خیال ہے اگر آپ کے والد پر قرضہ ہوتا اور آپ اس کو ادا کر دیتے تو کیا یہ کفایت کر جاتا؟“ کہنے لگا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کی طرف سے حج کرو۔“