حدیث نمبر: 8605
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ فِي اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ وَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا يَقْلِبُهَا حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ بَابَ الْمَسْجِدِ الَّذِي عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ ⦗٥٣٠⦘ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِمَا رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَسَلَّمَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَفَذَا، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ " فَقَالَا: سُبْحَانَ اللهِ يَا رَسُولَ اللهِ وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنَ ابْنِ آدَمَ مَبْلَغَ الدَّمِ وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس معتکف میں آپ ﷺ کی زیارت کے لیے آئیں جو آپ ﷺ رمضان کے آخری عشرے کا مسجد میں کر رہے تھے۔ کچھ دیر آپ ﷺ سے گفتگو کی۔ پھر جانے کے لیے کھڑی ہو گئیں تو نبی کریم ﷺ بھی کھڑے ہو گئے انہیں چھوڑنے کے لیے حتیٰ کہ آپ ﷺ مسجد کے دروازے کے پاس آئے جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس تھا۔ وہاں سے دو انصاری صحابی رضی اللہ عنہما گزرے، انہوں نے نبی ﷺ کو سلام پیش کیا اور چل دیے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھہرو وہی جگہ، یہ صفیہ بنت حیی تھیں۔“ اور دونوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ»! اللہ کے رسول ﷺ! یہ کیا بات ہوئی؟ اور یہ بات انہیں گراں گزری تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بیشک شیطان ابنِ آدم کے جسم میں وہاں تک جاتا ہے جہاں تک خون پہنچتا ہے اور میں ڈر گیا کہ تمہارے دلوں میں کوئی بات نہ بیٹھ جائے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8605