السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ترك المرأة نقض قرونها إذا علمت وصول الماء إلى أصول شعرها باب: عورت کا اپنی مینڈھیاں نہ کھولنے کا بیان جب اسے بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچ جانے کا یقین ہو
حدیث نمبر: 857
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَنَا عِنْدَهُ فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ ⦗٢٨٠⦘ أَشَدُّ ضَفْرَ رَأْسِي فَكَيْفَ أَصْنَعُ حِينَ أَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ: " احْفِنِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ، ثُمَّ اغْمِزِي أَثَرَ كُلِّ حَفْنَةٍ " وَقَصَّرَ بِإِسْنَادِهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فِي رِوَايَةِ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْهُ أَنَّ سَعِيدًا سَمِعَهُ مِنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن ابو سعید مقبری نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ انصار کی ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور میں بھی آپ ﷺ کے پاس تھی، اس نے کہا: میں اپنے سر کی مینڈھیاں سختی سے باندھتی ہوں، جب میں غسل جنابت کروں تو کیسے کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے سر پر تین چلو پانی ڈال لے پھر ہر چلو کے نشان پر چھینٹے مار۔“