السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: الترغيب في طلبها ليلة سبع وعشرين. باب: اسے ستائیسویں رات کو تلاش کرنے کی ترغیب کا بیان۔
حدیث نمبر: 8554
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّكُمْ يَذْكُرُ ⦗٥١٤⦘ لَيْلَةَ الصَّهْبَاوَاتِ " فَقَالَ عَبْدُ اللهِ أَنَا وَاللهِ أَذْكُرُهَا يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي وَأَنَّ فِي يَدِيَّ تَمَرَاتٍ أَتَسَحَّرُ بِهِنَّ مُسْتَتِرًا بِمُؤْخِرَةَ رَحْلٍ مِنَ الْفَجْرِ وَذَلِكَ حِينَ طَلَعَ الْقَمَرُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کون تم میں سے یاد رکھے گا؟“ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں یاد رکھوں گا، آپ ﷺ پر میرے باپ فدا ہوں اور میرے ہاتھ میں کچھ کھجوریں ہیں، کیا میں ان سے سحری کروں؟ آپ ﷺ کجاوے کے ساتھ ٹیک لگا کر فجر کو دیکھ رہے تھے اور یہ چاند کے طلوع ہونے کا وقت تھا۔