السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: الترغيب في طلبها في الشفع من العشر الأواخر فإنه إذا عد الشهر من آخره كانت أشفاعه أوتارا باب: اسے آخری عشرے کی جفت راتوں میں تلاش کرنے کی ترغیب، کیونکہ جب مہینے کو اس کے آخر سے شمار کیا جائے تو اس کی جفت راتیں طاق بن جاتی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ أَبُو مَسْعُودٍ يَعْنِي الْجُرَيْرِيَّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَبْلَ أَنْ تُبَانَ لَهُ فَلَمَّا انْقَضَيْنَ أَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَنُقِضَ وَرُفِعَ ثُمَّ أُبِينَتْ لَهُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فَأَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَأُعِيدَ مَكَانَهُ وَاعْتَكَفَ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَخَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي أُنْبِئْتُ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَخَرَجْتُ كَيْمَا أُحَدِّثُكُمْ بِهَا أَوْ أُخْبِرُكُمْ بِهَا فَتَلَاحَى رَجُلَانِ يَحْتَقَّانِ مَعَهُمَا الشَّيْطَانُ فَأُنْسِيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ ⦗٥٠٨⦘ وَالْخَامِسَةِ ".سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کے لیے تاکہ (وہ) واضح ہو جائے، جب عشرہ پورا ہو گیا تو آپ ﷺ نے خیمہ ختم کرنے کا حکم دیا تو اسے اٹھا لیا گیا، پھر آخری عشرے کے لیے اسی جگہ خیمہ نصب کیا گیا اور آپ ﷺ نے آخری عشرے کا اعتکاف کیا اور آپ ﷺ ہماری طرف تشریف لائے اور فرمایا: ”اے لوگو! مجھے لیلۃ القدر کی خبر دی گئی، میں نکلا تاکہ تمہیں آگاہ کروں مگر دو آدمی جھگڑا کر رہے تھے اور ان کے ساتھ شیطان تھا، سو میں (وہ وقت) بھلا دیا گیا، تم اسے تلاش کرو تو سات، پانچ کی راتوں کو۔“
(ابومعاویہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تیسری رات میں، اور امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں سعید جریری سے اسی معنی میں حدیث بیان کی مگر یہ کہ جب اکیس گزر جائیں جو اس کے ساتھ ہے وہ بائیس ہے)۔