مَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَسْبَاطُ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ عَجْرَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " لَا يُعِيدُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ جُنُبًا. يَعْنِي الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عُثْمَانَ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ: لَيْسَ لِعَائِشَةَ بِنْتِ عَجْرَدٍ، إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَثَرُهُ الَّذِي يَعْتَمِدُ عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ عَجْرَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَعَمَ أَنَّ هَذَا الْأَثَرَ ثَابِتٌ يُتْرَكُ لَهُ الْقِيَاسُ وَهُوَ يَعِيبُ عَلَيْنَا أَنْ نَأْخُذَ بِحَدِيثِ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعُثْمَانُ، وَعَائِشَةُ غَيْرُ مَعْرُوفَيْنِ بِبَلَدِهِمَا، وَكَيْفَ يَجُوزُ لِأَحَدٍ أَنْ يُثَبِّتَ ضَعِيفًا مَجْهُولًا، وَيُوَهِّنَ قَوِيًّا مَعْرُوفًا. قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ عَجْرَدٍ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ لَيْسَ بِحُجَّةٍ.سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ دوبارہ (غسل) نہیں کرے گا مگر جنبی ہوا تو کرے گا، یعنی کلی اور ناک میں پانی چڑھائے گا۔
(ب) علی بن عمر فرماتے ہیں کہ عائشہ بنت عجرد کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت ہے۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کا اثر وہ ہے جس کی سند عثمان بن راشد عن عائشہ بنت عجرد عن ابن عباس رضی اللہ عنہما ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ حدیث ثابت ہے، اس کی وجہ سے قیاس کو ترک کر دیا جائے گا اور یہ ہم پر عیب ہے کہ ہم حدیث بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کو لیں۔
(د) عثمان اور عائشہ غیر معروف ہیں اور ان کے شہروں کا علم نہیں۔ شیخ کہتے ہیں: اس حدیث کو حجاج بن ارطاۃ عن عائشہ بنت عجرد روایت کیا گیا ہے، حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں۔