مَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ حُبَابٍ، ثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةٌ فَبُلُّوا الشَّعْرَ وَأَنْقُوا الْبَشَرَةَ ". تَفَرَّدَ بِهِ هَكَذَا الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، وَقَدْ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ وَجِيهٍ فَقَالَ: لَيْسَ حَدِيثُهُ بِشَيْءٍ وَأَنْكَرَهُ غَيْرُهُ أَيْضًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ: الْبُخَارِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ وَغَيْرُهُمَا. وَإِنَّمَا يُرْوَى عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا. وَعَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا. وَعَنِ النَّخَعِيِّ كَانَ يُقَالُ، ثُمَّ قَدْ حَمَلَهُ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ الزَّعْفَرَانِيِّ وَغَيْرِهِ ⦗٢٧٧⦘ عَنْهُ عَلَى مَا ظَهَرَ. وَدَاخِلُ الْأَنْفِ وَالْفَمِ مِمَّا بَطَنَ فَأَشْبَهَ دَاخِلَ الْعَيْنَيْنِ وَدَاخِلَ الْأُذُنَيْنِ فَقَالَ مَنْ تَكَلَّمَ فِيهَا مَعَ الشَّافِعِيِّ: الْقِيَاسُ أَنْ لَا يُعِيدَ وَلَكِنَّا أَخَذْنَا بِالْأَثَرِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَعْنِي.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر بال کے نیچے جنابت ہے، بالوں کو تر کرو اور جلد کو اچھی طرح صاف کرو۔“
(ب) اس کو اس طرح بیان کرنے میں حارث بن وجیہ منفرد ہیں، اور یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے حارث بن وجیہ کے متعلق کہا: اس کی حدیث کی کوئی حیثیت نہیں۔
(ج) محدثین میں سے امام بخاری رحمہ اللہ، امام ابوداؤد رحمہ اللہ اور دوسروں نے اس کا انکار کیا ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ نبی ﷺ سے مرسل روایت بیان کرتے ہیں، اسی طرح امام حسن بصری سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوف روایت بیان کرتے ہیں، امام نخعی رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح نقل کیا گیا ہے۔
(د) امام شافعی رحمہ اللہ نے اسے ظاہری حصے پر محمول کیا ہے، اور ناک اور منہ کا اندرونی حصہ پوشیدہ اعضاء میں سے ہے، لہٰذا یہ آنکھوں اور کانوں کے اندرونی حصے کے مشابہ ہے۔ جس نے امام شافعی رحمہ اللہ کے ساتھ اس مسئلہ میں کلام کیا اس نے کہا: قیاس یہ ہے کہ وہ غسل نہیں دہرائے گا لیکن ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اثر کو لیا ہے۔