السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب المنع من الانتفاع بشعر الميتة باب: مردار کے بالوں سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 85
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، أنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ، حَدَّثَهُ قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى ابْنِ وَعْلَةَ السَّبَائِيَّ فَرْوًا فَمَسَسْتُهُ، فَقَالَ: مَا لَكَ تَمَسُّهُ؟ قَدْ سَأَلْتُهُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: إِنَا نَكُونُ بِالْمَغْرِبِ وَمَعَنْا الْبَرْبَرُ وَالْمَجُوسُ نُؤْتَى بِالْكَبْشِ قَدْ ذَبَحُوهُ، وَنَحْنُ لَا نَأْكُلُ ذَبَائِحَهُمْ وَنُؤتَى بِالسِّقَاءِ يَجْعَلُونَ فِيهِ الْوَدَكَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " دِبَاغُهُ طَهُورُهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، وَغَيْرِهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الرَّبِيعِ.حافظ ثناء اللہ
ابو الخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن وعلہ سبائی رحمہ اللہ پر بالوں کا بنا ہوا لباس دیکھا تو میں نے اس کپڑے کو چھوا، انہوں نے پوچھا: تم اس کو چھو کر کیوں دیکھ رہے ہو؟ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ ہم مغرب میں بربر اور مجوس قوم کے ساتھ رہتے ہیں اور ہمارے پاس مینڈھے لائے جاتے ہیں، وہ ذبح کرتے تھے، ہم ان کا ذبیحہ نہیں کھاتے تھے۔ ہمارے پاس مشکیزے لائے جاتے ہیں جن میں چربی ہوتی ہے؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا رنگنا اس کا پاک کرنا ہے۔“