السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: ما ورد من النهي عن تخصيص يوم السبت بالصوم باب: ہفتے کے دن کو روزے کے لیے خاص کرنے کی ممانعت کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو ⦗٤٩٩⦘ الْمُوَجِّهِ، ثنا عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثُونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَسْأَلُهَا عَنْ أِيِّ الْأَيَّامِ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ لَهَا صِيَامًا، فَقَالَتْ: يَوْمُ السَّبْتِ وَالْأَحَدِ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ فَكَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوا ذَلِكَ فَقَامُوا بِأَجْمَعِهِمْ إِلَيْهَا فَقَالُوا: إِنَّا بَعَثْنَا إِلَيْكِ هَذَا فِي كَذَا وَكَذَا فَذَكَرَ أَنَّكِ قُلْتِ: كَذَا وَكَذَا فَقَالَتْ: صَدَقَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مَا كَانَ يَصُومُ مِنَ الْأَيَّامِ يَوْمَ السَّبْتِ وَالْأَحَدِ، وَكَانَ يَقُولُ: " إِنَّهُمَا يَوْمَا عِيدٍ لِلْمُشْرِكِينَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَهُمْ ".سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور اصحابِ نبی ﷺ میں سے کچھ لوگوں نے انہیں سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ وہ ان ایام کے بارے میں پوچھیں جن میں آپ ﷺ اکثر روزہ رکھتے تھے، تو انہوں نے کہا: ہفتہ اور اتوار۔ پھر میں ان کے پاس پلٹ آیا اور انہیں یہ خبر دی تو گویا وہ اسے عجیب تصور کر رہے تھے، تو وہ سب ان کے پاس چلے گئے کہ ہم نے اس مسئلے کے لیے آپ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تھا اور یہ کہتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا نے یہ بات کہی ہے، تو انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ اکثر ہفتے اور اتوار کا روزہ رکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: ”یہ مشرکین کے عید کے ایام تھے اور میں ان کی مخالفت کرنا چاہتا ہوں۔“