السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: ما ورد من النهي عن تخصيص يوم السبت بالصوم باب: ہفتے کے دن کو روزے کے لیے خاص کرنے کی ممانعت کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 8496
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، ثنا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ: مَا زِلْتُ لَهُ كَاتِمًا ثُمَّ رَأَيْتُهُ انْتَشَرَ يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ بُسْرٍ هَذَا فِي صَوْمِ يَوْمِ السَّبْتِ وَقَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي الْبَابِ قَبْلَهُ مَا دَلَّ عَلَى جَوَازِ صَوْمِ يَوْمِ السَّبْتِ وَكَأَنَّهُ أَرَادَ بِالنَّهْيِ تَخْصِيصَهُ بِالصَّوْمِ عَلَى طَرِيقِ التَّعْظِيمِ لَهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
اوزاعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں ہمیشہ چھپاتا رہا مگر میں نے دیکھا کہ یہ بات لکھ چکی ہے یعنی ابن بسر رضی اللہ عنہما کی حدیث جو ہفتے کے روزے کے بارے میں ہے۔
(جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی حدیث اس سے پہلے باب میں گزر چکی ہے جو ہفتے کے دن کے روزے کے جواز میں ہے، گویا منع کرنے کا مقصد اس دن کا روزہ تعظیماً رکھنا ہے۔)