حدیث نمبر: 8491
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ جُمُعَةٍ وَهِيَ صَائِمَةٌ فَقَالَ: " صُمْتِ أَمْسِ؟ " فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَتَصُومِينَ غَدًا؟ " قُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَأَفْطِرِي " ⦗٤٩٨⦘.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس آئے جمعہ کے دن اور وہ روزے سے تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے کل کا روزہ رکھا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تو آنے والی کل کا روزہ رکھے گی؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر روزہ افطار کر لے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8491
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري»