حدیث نمبر: 8480
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، أَحْسَبُهُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مُرْنِي بِأَمْرٍ يَنْفَعُنِي اللهُ بِهِ قَالَ: " عَلَيْكَ بِالصِّيَامِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ " قَالَ: فَكَانَ أَبُو أُمَامَةَ لَا يُلْقَى إِلَّا صَائِمًا هُوَ وَامْرَأَتُهُ وَخَادِمُهُ، فَإِذَا رُئِيَ فِي دَارِهِ دُخَانٌ بِالنَّهَارِ قِيلَ: اعْتَرَاهُمْ ضَيْفٌ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ أَمَرْتَنِي بِأَمْرٍ أَرْجُو اللهَ أَنْ يَكُونَ قَدْ بَارَكَ اللهُ لِي فِيهِ فَمُرْنِي بِأَمْرٍ، قَالَ: " اعْلَمْ أَنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللهُ بِهَا دَرَجَةً وَكَتَبَ لَكَ بِهَا حَسَنَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا سَيِّئَةً " تَابَعَهُ مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنْ أَبِي نَصْرٍ الْهِلَالِيِّ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک قافلہ بھیجا، (راوی نے) آگے حدیث بیان کی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے ایسا حکم دیں جو میرے لیے مفید ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے اوپر (روزے کو) لازم کر لو، کیونکہ اس کی مثل کوئی عمل نہیں۔“ پھر ابو امامہ رضی اللہ عنہ نہیں ملا کرتے تھے مگر روزے کی حالت میں، وہ، ان کا خادم اور ان کی بیوی بھی (اسی حال میں ہوتے تھے)۔ جب دن میں ان کے گھر میں دھواں دکھائی دیتا تو ہم سمجھتے کہ کوئی مہمان آیا ہے۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے مجھے ایک بات بتائی، مجھے امید ہے اللہ اس میں برکت دیں گے۔ مجھے کوئی اور بات بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو جان لے کہ تو کوئی بھی سجدہ نہیں کرتا مگر اس کے ساتھ اللہ تیرا درجہ بلند کرتا ہے، تیرے لیے نیکی لکھی جاتی ہے اور تیرا گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8480
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه الطبراني»