السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من لم ير بسرد الصيام بأسا إذا لم يخف على نفسه ضعفا وأفطر الأيام التي نهي عن صومها باب: ان کا بیان جنہوں نے مسلسل روزے رکھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھا بشرطیکہ انسان کو اپنے اوپر کمزوری کا خوف نہ ہو اور وہ ان ایام میں روزہ افطار کرے جن میں روزہ رکھنے کی ممانعت ہے۔
حدیث نمبر: 8478
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: " مَنْ صَامَ الدَّهْرَ ضُيِّقَتْ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ هَكَذَا، وَعَقَدَ عَلَى تِسْعِينَ " لَمْ يَرْفَعْهُ شُعْبَةُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”جس نے سال بھر کے روزے رکھے اس پر جہنم کو اس طرح تنگ کر دیا جائے گا۔“ اور انہوں نے نوے کی گرہ لگائی۔
شعبہ نے اسے مرفوع (نبی کریم ﷺ کا فرمان) بیان نہیں کیا۔