السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من كره صوم الدهر واستحب القصد في العبادة لمن يخاف الضعف على نفسه باب: ان کا بیان جنہوں نے صومِ دہر (ہمیشہ روزہ رکھنے) کو مکروہ قرار دیا، اور جس شخص کو خود پر کمزوری کا خوف ہو اس کے لیے عبادت میں میانہ روی کو مستحب قرار دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ الْمَعْوَلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ كَيْفَ صَوْمُكَ أَوْ كَيْفَ تَصُومُ قَالَ: فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا، فَلَمَّا أَنْ سَكَنَ عَنْهُ الْغَضَبُ سَأَلَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ كَيْفَ صَوْمُكَ أَوْ كَيْفَ تَصُومُ أَرَأَيْتَ مَنْ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ؟ قَالَ: " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ " أَوْ قَالَ: " مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ مَنْ صَامَ يَوْمَيْنِ وَأَفْطَرَ يَوْمًا؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَنْ يطِيقُ ذَلِكَ يَا عُمَرُ لَوَدِدْتُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ مَنْ صَامَ يَوْمًا وَأَفْطَرَ يَوْمًا؟ قَالَ: " ذَاكَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ " فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَرَأَيْتَ مَنْ صَامَ يَوْمَ عَرَفَةَ؟ قَالَ: " يُكَفِّرُ السَّنَةَ وَالسَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهَا " قَالَ: أَرَأَيْتَ مَنْ صَامَ ثَلَاثًا مِنَ الشَّهْرِ؟ قَالَ: " ذَاكَ صَوْمُ الدَّهْرِ " قَالَ: أَرَأَيْتَ مَنْ صَامَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ؟ قَالَ: " يُكَفِّرُ السَّنَةَ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ مَنْ صَامَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ؟ قَالَ: " ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَيَوْمٌ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ فِيهِ النُّبُوَّةُ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَبَّانَ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبَانَ بْنِ يَزِيدَ.سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے نبی! آپ کے روزے کیسے ہیں یا آپ ﷺ روزے کس طرح رکھتے ہیں؟“ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ خاموش ہو گئے۔ اسے کوئی جواب نہ دیا۔ جب آپ ﷺ کا غصہ تھما تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے اللہ کے نبی ﷺ! آپ ﷺ کیسے روزے رکھتے ہیں اور اس کے متعلق بتائیے جو پورا سال روزے رکھتا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ افطار کیا۔“ پھر انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس نے دو دن روزہ رکھا اور ایک دن افطار کیا اس کے بارے میں بتائیے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! اس کی طاقت کون رکھتا ہے؟ میں چاہتا ہوں کہ ایسا کروں۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! جس نے ایک دن روزہ رکھا اور ایک دن افطار کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے۔“ پھر کہا: اے اللہ کے رسول! جس نے یومِ عرفہ کا روزہ رکھا اس کی خبر دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک سال کے گناہ مٹا دے گا اور ایک سال پہلے کے بھی۔“ پھر انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی خبر دیں جس نے ہر ماہ تین روزے رکھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ سال بھر کے روزے ہیں۔“ پھر کہا: اس کی خبر دیں جس نے عاشوراء کا روزہ رکھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک سال کے گناہ معاف ہوں گے۔“ پھر کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی خبر دیں جس نے پیر کا روزہ رکھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس میں میں پیدا ہوا اور مجھ پر نبوت نازل کی گئی۔“