السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من كره صوم الدهر واستحب القصد في العبادة لمن يخاف الضعف على نفسه باب: ان کا بیان جنہوں نے صومِ دہر (ہمیشہ روزہ رکھنے) کو مکروہ قرار دیا، اور جس شخص کو خود پر کمزوری کا خوف ہو اس کے لیے عبادت میں میانہ روی کو مستحب قرار دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَّ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ؟ " قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " فَلَا تَفْعَلْ نَمْ وَقُمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِعَيْنَيْكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ كُلَّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَإِذَا ذَاكَ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ " قَالَ: فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ: " فَصُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ " قَالَ: فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: " فَصُمْ صِيَامَ نَبِيِّ اللهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ " قَالَ: فَقُلْتُ وَمَا كَانَ صِيَامُ نَبِيِّ اللهِ دَاوُدَ؟ قَالَ: " نِصْفُ الدَّهْرِ ".سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تجھے خبر نہ دوں کہ تو «صَائِمُ النَّهَارِ» ”دن کو روزہ رکھنے والا“ اور «قَائِمُ اللَّيْلِ» ”رات کو قیام کرنے والا“ ہے؟“ وہ کہتے ہیں میں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ! ایسے ہی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کر بلکہ تو سو اور قیام کر اور روزہ رکھ اور روزہ افطار کر، تجھ پر تیرے جسم کا حق ہے، تجھ پر تیری آنکھ کا حق ہے، تیری بیوی کا تجھ پر حق ہے، تیرے مہمان کا تجھ پر حق ہے، تیرے لیے یہ کافی ہے کہ تو ہر ماہ میں تین روزے رکھے اور بے شک ہر نیکی دس گنا ہے، جب تو یہ کرے گا تو «صَائِمُ الدَّهْرِ» ”ہمیشہ روزہ رکھنے والا“ ہوگا۔“ وہ کہتے ہیں: میں نے سختی کی تو مجھ پر بھی سختی کی گئی۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ! مجھ میں طاقت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تو ہر ہفتے میں تین روزے رکھ۔“ وہ کہتے ہیں: میں نے سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ! میں استطاعت رکھتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تو اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کے روزے رکھ اور اس سے زیادہ نہ کر۔“ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کے روزے کیا تھے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدھا سال۔“