السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من كره أن يتخذ الرجل صوم شهر يكمله من بين الشهور أو صوم يوم من بين الأيام. باب: ان کا بیان جنہوں نے اس بات کو مکروہ جانا کہ آدمی مہینوں میں سے کسی خاص مہینے کو مکمل روزوں کے لیے چن لے یا دنوں میں سے کسی خاص دن کو روزے کے لیے مقرر کر لے۔
حدیث نمبر: 8472
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ ⦗٤٩٣⦘ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخُصُّ مِنَ الْأَيَّامِ شَيْئًا؟ قَالَتْ: " لَا كَانَ عَمَلُهُنَّ دِيمَةً وَأَيُّكُمْ يُطِيقُ مَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيقُ؟ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُسَدَّدٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ جَرِيرٍ عَنْ مَنْصُورٍ.حافظ ثناء اللہ
علقمہ کہتے ہیں: میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ کوئی دن مخصوص بھی کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ کا عمل ہمیشگی کا ہوتا تھا اور تم میں سے کون اس قدر طاقت رکھتا ہے جس قدر آپ ﷺ طاقت رکھتے تھے۔