السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من زعم أن صوم عاشوراء كان واجبا ثم نسخ وجوبه باب: ان کا بیان جن کا یہ گمان ہے کہ عاشوراء کا روزہ واجب تھا پھر اس کا وجوب منسوخ ہو گیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ عَاشُورَاءَ إِلَى قُرَى الْأَنْصَارِ الَّتِي حَوْلَ الْمَدِينَةِ " مَنْ كَانَ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ وَمَنْ كَانَ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ " قَالَتْ: فَكُنَّا نَصُومُهُ بَعْدَ ذَلِكَ وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا الصِّغَارَ وَنَجْعَلُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ وَنَذْهَبُ بِهِمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ عَلَى الطَّعَامِ أَعْطَيْنَاهُ ذَلِكَ حَتَّى يَكُونَ عِنْدَ الْإِفْطَارِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ.سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عاشوراء کی صبح کو رسول اللہ ﷺ نے انصار کی ان بستیوں کی طرف جو مدینہ کے اردگرد تھیں قاصد بھیجا کہ: ”جس نے روزے کی حالت میں صبح کی اسے چاہیے کہ وہ روزہ پورا کرے اور جس نے «مفطر» (بغیر روزے کے) کی حیثیت سے صبح کی تو وہ باقی دن پورا کرے۔“ وہ کہتی ہیں: ہم اس کے بعد روزہ رکھا کرتی تھیں اور ہم اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزے رکھوایا کرتی تھیں اور ان کے لیے کھجور کی شاخوں سے کھلونے بناتی تھیں اور انہیں مسجد لے جاتی تھیں، تو جب ان میں سے کوئی کھانے کی وجہ سے روتا تو ہم اسے وہ (کھلونا) دے دیتیں حتیٰ کہ افطار کا وقت ہو جاتا۔