السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من زعم أن صوم عاشوراء كان واجبا ثم نسخ وجوبه باب: ان کا بیان جن کا یہ گمان ہے کہ عاشوراء کا روزہ واجب تھا پھر اس کا وجوب منسوخ ہو گیا۔
حدیث نمبر: 8407
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ إِلَى قَوْمِهِ يَأْمُرُهُمْ فَلْيَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ، فَقَالَ: مَا أَرَى آتِيَهُمْ حَتَّى يَطْعَمُوا، قَالَ: " مَنْ طَعِمَ مِنْهُمْ فَلْيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَكِّيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے قبیلہ اسلم میں سے ایک آدمی کو اس کی قوم کی طرف یومِ عاشور کو بھیجا تاکہ وہ انہیں حکم دے کہ وہ اس دن کا روزہ رکھیں۔ اس نے کہا: میرا نہیں خیال کہ میں ان کے پاس جاؤں تو وہ کھانا کھا چکے ہوں گے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: (نہیں آیا تھا میں ان کے پاس حتیٰ کہ وہ کھانا کھا چکے تھے۔) ”جو ان میں سے کھانا کھا چکے ہوں تو وہ باقی دن کا روزہ رکھیں۔“