❮
❯
حدیث نمبر: 8403
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ قَاضِي مِصْرَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ قَالَا: ثنا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ الْأَعْرَجِ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ عِنْدَ زَمْزَمَ قَالَ: فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ وَكَانَ نِعْمَ الْجَلِيسِ فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَاسْتَوَى قَاعِدًا ثُمَّ قَالَ: " عَنْ أِيِّ حَالِهِ تَسْأَلُ؟ " قُلْتُ: عَنْ صِيَامِهِ، أِيَّ يَوْمٍ نَصُومُ؟ قَالَ: " إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، فَإِذَا أَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعِهِ فَأَصْبِحْ صَائِمًا " قَالَ: قُلْتُ: كَذَلِكَ كَانَ يَصُومُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَعَمْ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ عَنْ حَاجِبٍ وَكَأَنَّهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرَادَ صَوْمَهُ مَعَ الْعَاشِرِ وَأَرَادَ بِقَوْلِهِ فِي الْجَوَابِ نَعَمْ مَا رُوِيَ مِنْ عَزْمِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَوْمِهِ وَالَّذِي يُبَيِّنُ هَذَا.
حافظ ثناء اللہ

حکم بن اعرج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا تو وہ اپنی چادر کا تکیہ بنائے زمزم کے پاس بیٹھے تھے، میں ان کے پاس بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے، میں نے کہا: مجھے یومِ عاشوراء کے بارے میں بتائیے۔ تو وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، پھر کہا: ”تم اس کے کس پہلو کے بارے میں پوچھتے ہو؟“ میں نے کہا: روزے کے متعلق کہ ہم کس دن کا روزہ رکھیں۔ انہوں نے کہا: ”جب محرم کا چاند دیکھو تو شمار کرو، جب اس کی نو تاریخ کو صبح کرو تو روزے کی حالت میں صبح کرو۔“ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ محمد ﷺ یوں ہی روزہ رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8403
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم»