السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: صوم يوم عرفة لغير الحاج باب: غیر حاجی کے لیے یومِ عرفہ کے روزے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8382
وَرَوَاهُ مُجَاهِدٌ عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ إِيَاسٍ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَقَالَ: " يُكَفِّرُ السَّنَةَ " وَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ فَقَالَ: " ⦗٤٦٩⦘ يُكَفِّرُ سَنَتَيْنِ سَنَةً مَاضِيَةً وَسَنَةً مُسْتَقْبِلَةً " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أنبأ الثَّوْرِيُّ أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ عَنْ مُجَاهِدٍ فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے صوم عاشورہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے“ اور آپ ﷺ سے صوم عرفہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ دو سالوں کا کفارہ ہے، ایک سال گزرا ہوا اور ایک سال آنے والا۔“
(حرملہ بن عباس ابو قتادہ کے غلام کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”عرفہ کا روزہ دو سالوں کا کفارہ ہوتا ہے، ایک سال اور دوسرا بعد میں آنے والا اور عاشور کا روزہ ایک سال کا کفارہ ہوتا ہے۔“)