❮
❯
حدیث نمبر: 8371
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ زُمَيْلُ بْنُ عَبَّاسٍ عَنْ عُرْوَةَ: رَوَى عَنْهُ ابْنُ الْهَادِ لَا يُعْرَفُ لِزُمَيْلٍ سَمَاعٌ مِنْ عُرْوَةَ وَلَا لِابْنِ الْهَادِ مِنْ زُمَيْلٍ وَلَا تَقُومُ بِهِ الْحُجَّةُ سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَذْكُرُهُ عَنِ الْبُخَارِيِّ، قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ عَائِشَةَ لَا يَصِحُّ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ قَدْ بَيَّنْتُ ضَعْفَهَا فِي الْخِلَافِيَّاتِ.
حافظ ثناء اللہ

ابو احمد عبداللہ بن عدی حافظ کہتے ہیں: زمیل بن عباس عروہ سے روایت کرتا ہے اور اس سے ابن الہاد نے روایت کی ہے۔ زمیل کا عروہ سے سماع معروف نہیں، نہ ابن الہاد کا زمیل سے، اور اس سے حجت قائم نہیں ہوتی۔ میں نے ابن حماد کو یہ بات امام بخاری سے نقل کرتے سنا۔
شیخ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی بیان کی گئی ہے، ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں، اور میں نے ”الخلافیات“ میں ان کی کمزوری واضح کر دی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8371
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ذكره ابن عدي»