السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: صيام التطوع والخروج منه قبل تمامه باب: نفلی روزہ رکھنے اور اسے مکمل کرنے سے پہلے توڑ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8352
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ لَا يَرَى ⦗٤٦٠⦘ بَأْسًا أَنْ يُفْطِرَ الْإِنْسَانُ فِي صِيَامِ التَّطَوُّعِ، وَيَضْرِبُ لِذَلِكَ أَمْثَالًا، رَجُلٌ طَافَ سَبْعًا وَلَمْ يُوفِهِ فَلَهُ أَجْرُ مَا احْتَسَبَ أَوْ صَلَّى رَكْعَةً وَلَمْ يُصَلِّ أُخْرَى فَلَهُ أَجْرُ مَا احْتَسَبَ.حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس میں کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی نفلی روزہ افطار کرے اور اس کی مثال بیان کرتے تھے کہ ایک آدمی نے سات چکر لگائے مگر اسے پورا نہیں کیا تو اس کے لیے اجر وہی ہے جو اس نے عمل کیا، ایک رکعت پڑھی اور دوسری نہ پڑھی تو اس کے لیے اجر ان کے مطابق ہوگا۔