السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: صيام التطوع والخروج منه قبل تمامه باب: نفلی روزہ رکھنے اور اسے مکمل کرنے سے پہلے توڑ دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو، ثنا ⦗٤٥٦⦘ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ: " يَا عَائِشَةُ هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ " قَالَتْ: قُلْتُ: لَا وَاللهِ مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ، قَالَ: " فَإِنِّي صَائِمٌ " قَالَتْ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ أَوْ جَاءَنَا زُوَّرٌ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ: أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ أَوْ جَاءَنَا زُوَّرٌ وَقَدْ خَبَّأْتُ لَكَ شَيْئًا، قَالَ: " مَا هُوَ؟ " قُلْتُ: حَيْسٌ، قَالَ: " هَاتِيهِ " فَجِئْتُ بِهِ فَأَكَلَ ثُمَّ قَالَ: " قَدْ كُنْتُ أَصْبَحْتُ صَائِمًا " قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: لَفْظُ الْعَقَدِيِّ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كَامِلٍ الْجَحْدَرِيِّ وَزَادَ فِيهِ قَالَ طَلْحَةُ: فَحَدَّثْتُ مُجَاهِدًا بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ ذَاكَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يُخْرِجُ الصَّدَقَةَ مِنْ مَالِهِ فَإِنْ شَاءَ أَمْضَاهَا وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا.ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے مجھے کہا: ”اے عائشہ! کیا تیرے پاس کچھ ہے؟“ میں نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! ہمارے پاس کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں روزے سے ہوں۔“ وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نکلے تو ہمیں ہدیہ دیا گیا۔ ہمارے پاس جب رسول اللہ ﷺ پلٹے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ہدیہ دیا گیا ہے اور میں نے آپ ﷺ کے لیے کچھ چھپا لیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: وہ حریسہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس لاؤ۔“ میں لائی تو آپ ﷺ نے کھا لیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ویسے صبح میں نے روزے کی نیت کی تھی۔“
امام مسلم بیان کرتے ہیں کہ اضافے کے ساتھ طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے یہ حدیث مجاہد رحمہ اللہ کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا: یہ صدقہ کرنے والے آدمی کی طرح ہے جو اپنے مال میں سے نکالتا ہے۔ اگر چاہے تو نکالے چاہے تو روک لے۔