السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: الشيخ الكبير لا يطيق الصوم ويقدر على الكفارة يفطر ويفتدي باب: وہ بوڑھا شخص جو روزے کی طاقت نہ رکھتا ہو اور کفارہ ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو وہ روزہ چھوڑ دے اور فدیہ ادا کرے۔
حدیث نمبر: 8321
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ قَالَ: " لَمْ يُطِقْ أَنَسٌ صَوْمَ رَمَضَانَ عَامَ تُوُفِّيَ، وَعَرَفَ أَنَّهُ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقْضِيَهُ فَسَأَلْتُ ابْنَهُ عُمَرَ بْنَ أَنَسٍ مَا فَعَلَ أَبُو حَمْزَةَ؟ فَقَالَ: جَفَنَّا لَهُ جِفَانًا مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ فَأَطْعَمْنَا الْعِدَّةَ أَوْ أَكْثَرَ يَعْنِي مِنْ ثَلَاثِينَ رَجُلًا لِكُلِّ يَوْمٍ رَجُلًا ".حافظ ثناء اللہ
حمید بیان کرتے ہیں کہ جس سال سیدنا انس رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو وہ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور انہوں نے جان لیا کہ قضا بھی نہیں دے سکیں گے تو میں نے ان کے بیٹے عمر سے پوچھا کہ ابو حمزہ (رضی اللہ عنہ) نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: ایک ٹب روٹی اور گوشت کا تیار کیا گیا تو اتنے یا زیادہ مسکینوں کو کھانا کھلا دیا، یعنی تیس افراد کو ہر دن کے عوض ایک آدمی۔