السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: الصائم يمضمض، أو يستنشق فيرفق ولا يبالغ، فإن بالغ حتى وصل إلى رأسه أو إلى جوفه أفطر باب: روزے دار کلی کرے یا ناک میں پانی چڑھائے تو نرمی برتے اور مبالغہ نہ کرے، پس اگر اس نے مبالغہ کیا یہاں تک کہ پانی اس کے دماغ یا اس کے پیٹ تک پہنچ گیا تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔
حدیث نمبر: 8256
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَلِّلْ أَصَابِعَكَ، وَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ، وَإِذَا اسْتَنْشَقْتَ فَبَالِغْ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا ".حافظ ثناء اللہ
عاصم بن لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی انگلیوں کا خلال کر اور مکمل وضو کر، جب ناک جھاڑ تو اس میں مبالغہ کر مگر روزے کی حالت میں نہیں۔“