السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: الصائم يمضمض، أو يستنشق فيرفق ولا يبالغ، فإن بالغ حتى وصل إلى رأسه أو إلى جوفه أفطر باب: روزے دار کلی کرے یا ناک میں پانی چڑھائے تو نرمی برتے اور مبالغہ نہ کرے، پس اگر اس نے مبالغہ کیا یہاں تک کہ پانی اس کے دماغ یا اس کے پیٹ تک پہنچ گیا تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔
حدیث نمبر: 8255
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: هَشَشْتُ يَوْمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا، قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِالْمَاءِ وَأَنْتَ صَائِمٌ "، فَقُلْتُ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَفِيمَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں نے بوسہ لے لیا اور میں روزے سے تھا۔ پھر میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے کہا: آج میں نے بہت بڑا کام کیا ہے کہ میں نے روزے کی حالت میں بوسہ دیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے کہ اگر تو روزے کی حالت میں پانی سے کلی کرے؟“ میں نے کہا: کوئی حرج نہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کس میں؟“