السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من قال يصوم عنه وليه باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”اس کی طرف سے اس کا ولی روزہ رکھے گا“۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا جَعْفَرٌ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَطَاءٍ الْمَدِينِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ، قَالَ: " " وَجَبَ أَجْرُكِ، وَرَدَّهَا عَلَيْكِ الْمِيرَاثُ " "، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، أَفَأَصُومُ عَنْهَا؟ قَالَ: " " صُوْمِي عَنْهَا " "، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟ قَالَ: " " حُجِّي عَنْهَا " " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَطَاءٍ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَزُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَمَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَغَيْرِهِمْ، إِلَّا أَنَّ بَعْضَهُمْ قَالَ: صَوْمُ شَهْرَيْنِ، وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَطَاءٍ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ: وَصَوْمُ شَهْرٍ. فَثَبَتَ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ جَوَازُ الصَّوْمِ عَنِ الْمَيِّتِ، وَكَانَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ قَالَ فِي كِتَابِ الْقَدِيمِ: وَقَدْ رُوِيَ فِي الصَّوْمِ عَنِ الْمَيِّتِ شَيْءٌ، فَإِنْ كَانَ ثَابِتًا صِيمَ عَنْهُ كَمَا يُحَجُّ عَنْهُ، وَأَمَّا فِي ⦗٤٢٩⦘ الْجَدِيدِ فَإِنَّهُ سَأَلَ عَنْ نَفْسِهِ فَقَالَ: فَإِنْ قِيلَ: فَرُوِيَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَحَدًا أَنْ يَصُومَ عَنْ أَحَدٍ، قِيلَ: نَعَمْ، رَوَى ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ قِيلَ: فَلِمَ لَا تَأْخُذُ بِهِ، قِيلَ: حَدَّثَ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَذْرًا وَلَمْ يُسَمِّهِ مَعَ حِفْظِ الزُّهْرِيِّ وَطُولِ مُجَالَسَةِ عُبَيْدِ اللهِ لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَلَمَّا جَاءَ غَيْرُهُ عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِغَيْرِ مَا فِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ أَشْبَهُ أَنْ لَا يَكُونَ مَحْفُوظًا، يَعْنِي بِهِ الْحَدِيثَ الَّذِي.سیدنا عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آئی، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی ماں کو صدقے میں ایک باندی دی تھی، مگر میری ماں فوت ہو چکی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا اجر واجب ہو گیا اور تیری میراث تجھے لوٹ آئی۔“ پھر اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس پر ایک ماہ کے روزے بھی تھے، کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”روزے رکھ۔“ پھر اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس نے حج نہیں کیا تھا، کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی طرف سے حج کر۔“
سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا: ایک مہینے کے روزے۔ سو ان احادیث سے میت کی طرف سے روزے رکھنے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنی پرانی کتاب میں کہا: میت کی طرف سے روزہ رکھنے کے متعلق کچھ مروی ہے، اگر وہ ثابت ہو تو اس کی طرف سے روزہ رکھا جائے جیسے اس کی طرف سے حج کیا جاتا ہے۔ لیکن نئی کتاب میں انہوں نے خود سوال اٹھایا اور فرمایا: اگر کہا جائے کہ مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کو دوسرے کی طرف سے روزہ رکھنے کا حکم دیا، تو جواب ہے: ہاں، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ اگر کہا جائے: پھر آپ اسے کیوں نہیں لیتے؟ تو جواب ہے: زہری نے عبیداللہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے ”نذر“ روایت کی اور اس کی وضاحت نہیں کی، باوجود زہری کے حافظے اور عبیداللہ کی ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ لمبی ہم نشینی کے، تو جب کوئی دوسرا ایک آدمی کے واسطے سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عبیداللہ کی حدیث کے خلاف لایا تو زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ وہ محفوظ نہ ہو۔