السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من قال يصوم عنه وليه باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”اس کی طرف سے اس کا ولی روزہ رکھے گا“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، فِي امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا، قَالَ: " أَرَأَيْتِ لَوْ أَنَّ أُمَّكِ مَاتَتْ وَعَلَيْهَا دَيْنٌ، أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " اقْضِي دَيْنَ أُمِّكِ " وَهِيَ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ أَبُو حَرِيزٍ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ فَذَكَرَهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ بُرَيْدَةُ بْنُ حُصَيْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّوْمِ وَالْحَجِّ جَمِيعًا.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی کہ میری ماں فوت ہوگئی ہے اور اس کے ذمے پندرہ روزے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس پر قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتی؟“ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی ماں کا قرض ادا کر۔“ یہ خثعم کی عورت تھی۔
شیخ نے نقل فرمایا کہ بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روزے اور حج دونوں کے بارے میں نقل فرماتے ہیں، سلمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا: ایک مہینے کے روزے۔ سو اس حدیث سے میت کی طرف سے روزے رکھنے کا جواز ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنی پرانی کتاب میں کہا: جو میت کی طرف سے روزہ رکھنے کے متعلق فرمایا: اگر اس کی طرف سے (حدیث) ثابت ہو تو جیسے حج کیا جاسکتا ہے، روزہ بھی رکھا جاسکتا ہے۔ لیکن نئی کتاب میں جو ہے تو ان سے پوچھا گیا تو فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ایک کو دوسرے کی طرف سے روزے کا حکم دیا۔