السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: ما يستحب من تعجيل الفطر وتأخير السحور باب: افطار میں جلدی کرنے اور سحری میں تاخیر کرنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8122
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الْوَادِعِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ، أَوْ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْنَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ فِينَا رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَيُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُؤَخِرُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ السُّحُورَ، فَقَالَتْ: " مَنْ هَذَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ؟ " قُلْنَا: ابْنُ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: " كَذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَهَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
ابوعطیہ وادعی فرماتے ہیں کہ میں اور مسروق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ ہم نے کہا: ”اے ام المومنین! اصحابِ محمد ﷺ میں سے دو افراد ہیں، ایک ان میں سے افطار جلدی کرتا ہے مگر سحری میں تاخیر کرتا ہے، لیکن جو دوسرا ہے وہ افطار میں تاخیر کرتا ہے اور سحری میں جلدی کرتا ہے۔“ تو انہوں نے کہا: ”وہ کون ہے جو افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتا ہے؟“ ہم نے کہا: ”وہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔“ تو انہوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ یوں ہی کیا کرتے تھے۔“