السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من أغمي عليه في أيام من شهر رمضان فلا يجزئ عنه، وإن لم يأكل فيها باب: اس شخص کا بیان جو ماہِ رمضان کے کچھ دنوں میں بے ہوش رہا تو یہ اس کی طرف سے کفایت نہیں کرے گا (یعنی روزے درست نہیں ہوں گے)، اگرچہ اس نے ان دنوں میں کچھ کھایا پیا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 8109
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي بِنَيْسَابُورَ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِرَاسٍ بِمَكَّةَ حَرَسَهَا اللهُ تَعَالَى، قَالَا: أنبأ أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْجُمَحِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: " الصَّوْمُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ، وَأَكْلَهُ، وَشُرْبَهُ مِنْ أَجْلِي، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ، فَرْحَةٌ عِنْدَ إِفْطَارِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ، وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا کہ وہ اپنی شہوت اور کھانے پینے کو میری وجہ سے چھوڑتا ہے اور روزہ ڈھال ہے اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی افطار کے وقت ہو گی اور ایک خوشی رب سے ملاقات کے وقت اور اس کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ محبوب ہے۔“