السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من أغمي عليه في أيام من شهر رمضان فلا يجزئ عنه، وإن لم يأكل فيها باب: اس شخص کا بیان جو ماہِ رمضان کے کچھ دنوں میں بے ہوش رہا تو یہ اس کی طرف سے کفایت نہیں کرے گا (یعنی روزے درست نہیں ہوں گے)، اگرچہ اس نے ان دنوں میں کچھ کھایا پیا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 8108
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى رَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ”اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور یقیناً انسان کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے نیت کی۔ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف ہوگی اور جس نے دنیا کو حاصل کرنے کے لیے ہجرت کی اس کی ہجرت دنیا کی طرف ہے یا عورت کے لیے ہجرت کی کہ اس سے نکاح کرے تو اس کی ہجرت اس کی طرف ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔“