السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: إباحة القبلة لمن لم تحرك شهوته، أو كان يملك إربه باب: اس شخص کے لیے بوسہ لینے کے مباح ہونے کا بیان جس کی شہوت نہ بھڑکے، یا وہ اپنے نفس (خواہش) پر قابو رکھتا ہو۔
حدیث نمبر: 8102
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ الْبَصْرِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَفَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ مِصْدَعٍ أَبِي يَحْيَى، زَادَ يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ: خَتَنُ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ وَيَمُصُّ لِسَانَهَا، زَادَ عَفَّانُ: فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: سَمِعْتُهُ مِنْ سَعْدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے کی حالت میں بوسہ لیا کرتے تھے اور زبان چوس لیا کرتے تھے۔ عفان نے اضافہ کیا کہ اسے ایک آدمی نے کہا: تو نے سعد سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔