السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: إباحة القبلة لمن لم تحرك شهوته، أو كان يملك إربه باب: اس شخص کے لیے بوسہ لینے کے مباح ہونے کا بیان جس کی شہوت نہ بھڑکے، یا وہ اپنے نفس (خواہش) پر قابو رکھتا ہو۔
حدیث نمبر: 8101
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مَعْمَرٍ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقَبِّلَنِي فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ: " وَأَنَا صَائِمٌ " ثُمَّ قَبَّلَنِي.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بوسہ دینا چاہا تو میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور میں بھی روزے سے ہوں“، پھر آپ ﷺ نے بوسہ دیا۔