السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: إباحة القبلة لمن لم تحرك شهوته، أو كان يملك إربه باب: اس شخص کے لیے بوسہ لینے کے مباح ہونے کا بیان جس کی شہوت نہ بھڑکے، یا وہ اپنے نفس (خواہش) پر قابو رکھتا ہو۔
حدیث نمبر: 8095
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ تَضْحَكُ " وَقَالَ: قَالَ عُرْوَةُ: لَمْ أَرَ الْقُبْلَةَ تَدْعُو إِلَى خَيْرٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی ازواج کو روزے کی حالت میں بوسہ دیتے تھے، پھر وہ مسکرا دیں۔ راوی کہتا ہے: عروہ رحمہ اللہ نے کہا: ”میں نے نہیں دیکھا کہ بوسہ بھلائی کی دعوت دیتا ہے۔“