السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: إباحة القبلة لمن لم تحرك شهوته، أو كان يملك إربه باب: اس شخص کے لیے بوسہ لینے کے مباح ہونے کا بیان جس کی شہوت نہ بھڑکے، یا وہ اپنے نفس (خواہش) پر قابو رکھتا ہو۔
حدیث نمبر: 8094
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ: أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ؟ فَسَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَيْرِهِ عَنْ سُفْيَانَ.حافظ ثناء اللہ
سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن قاسم سے کہا: کیا آپ نے اپنے والد کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بیان کرتے سنا ہے کہ نبی کریم ﷺ روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیا کرتے تھے؟ تو وہ تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: ”ہاں۔“