السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: كراهية القبلة لمن حركت القبلة شهوته باب: اس شخص کے لیے بوسہ لینے کی کراہت کا بیان جس کی شہوت بوسہ لینے سے بھڑک اٹھے۔
حدیث نمبر: 8083
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَنْبَأََ أَحْمَدُ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي الْعَنْبَسِ، عَنِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ فَرَخَّصَ لَهُ، وَأَتَاهُ آخَرُ فَسَأَلَهُ فَنَهَاهُ، فَإِذَا الَّذِي رَخَّصَ لَهُ شَيْخٌ، وَالَّذِي نَهَاهُ شَابٌّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے روزے دار کی مباشرت کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے اسے رخصت دی، پھر دوسرا آیا تو اس نے بھی پوچھا، مگر آپ ﷺ نے اسے منع کر دیا۔ سو جسے آپ ﷺ نے رخصت دی وہ بوڑھا تھا اور جسے منع کر دیا وہ جوان تھا۔