السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: الحامل والمرضع لا تقدران على الصوم أفطرتا وقضتا بلا كفارة كالمريض باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کا بیان کہ جب وہ روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتی ہوں تو وہ روزہ چھوڑ دیں اور مریض کی طرح بغیر کفارے کے (صرف) قضا کریں۔
حدیث نمبر: 8081
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَجُلًا مِنْهُمْ، قَالَ: أُصِيبَتْ إِبِلٌ لَهُ، فَأَتَى الْمَدِينَةَ فِي طَلَبِ إِبِلِهِ، فَدَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَافَقَهُ وَهُوَ يَتَغَدَّى، فَقَالَ: " هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ " فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: " إِنَّ الصِّيَامَ وُضِعَ عَنِ الْمُسَافِرِ، وَشَطْرُ الصَّلَاةِ، وَعَنِ الْحُبْلَى أَوِ الْمُرْضِعِ ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن سوادہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، جو انہیں میں سے ایک تھے، فرماتے ہیں کہ ان کے اونٹ گم گئے اور وہ ان کی تلاش میں مدینہ آئے اور نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ کھانا کھا رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آؤ کھانا کھاؤ“ تو انہوں نے کہا: میں روزے دار ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک روزہ مسافر، حاملہ اور مریضہ پر معاف ہے اور نماز کی مسافر سے تخفیف کر دی گئی ہے۔“