السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الكافر يسلم فيغتسل باب: کافر کے اسلام لانے پر غسل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 808
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَغَرِّ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ جَدَّهُ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ " أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يُسْلِمَ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ". وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ وَجَمَاعَةٌ إِلَّا أَنَّ أَكْثَرَهُمْ قَالُوا: عَنْ جَدِّهِ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، وَرَوَاهُ قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ فَزَادَ فِي إِسْنَادِهِ.حافظ ثناء اللہ
قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور مسلمان ہونے کا ارادہ رکھتے تھے تو نبی ﷺ نے انہیں ”پانی اور بیری کے پتوں سے غسل کرنے“ کا حکم دیا۔ (ب) اس کے ہم معنی روایت محمد بن کثیر اور ایک جماعت نے بیان کی ہے، ان میں سے اکثر بیان کرتے ہیں کہ ان کے دادا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔