السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من تلذذ بامرأته حتى ينزل أفسد صومه، وإن لم ينزل لم يفسد استدلالا بما باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی بیوی سے لذت حاصل کی یہاں تک کہ اسے انزال ہو گیا تو اس نے اپنا روزہ فاسد کر لیا، اور اگر اسے انزال نہ ہوا تو اس کا روزہ فاسد نہیں ہوا، اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے۔
حدیث نمبر: 8075
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، حدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَلْقَمَةَ، وَشُرَيْحَ بْنَ أَرْطَاةَ رَجُلٌ مِنَ النَّخَعِ كَانَا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: سَلْهَا عَنِ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ لِأَرْفُثَ عِنْدَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ لَفْظُ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ وَحَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ قَرِيبٌ مِنْهُ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ قَالَ: عَنْ عَلْقَمَةَ وَشُرَيْحِ بْنِ أَرْطَاةَ أَنَّهُمَا ذَكَرَا عِنْدَ عَائِشَةَ الْقُبْلَةَ لِلصَّائِمِ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ.حافظ ثناء اللہ
ابراہیم فرماتے ہیں کہ علقمہ اور شریح بن ارطاۃ دونوں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، ایک نے دوسرے سے کہا: ان سے روزے دار کے بوسے کے بارے میں پوچھو۔ اس نے کہا: میں اُم المومنین کے پاس بیہودہ بات نہیں کروں گا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ بوسہ دیا کرتے اور آپ ﷺ روزے سے ہوتے، آپ ﷺ مباشرت کرتے اور روزے سے ہوتے مگر اپنی قوت پر بہت زیادہ اختیار رکھتے تھے۔